30 جون 2011 - 19:30

اسلام آباد…این آئی سی ایل اسکینڈل کیس کی تحقیقات میں ایف آئی اے آفیسر ظفرقریشی کو واپس لانے سے وزیراعظم نے انکار کردیاہے ، اس پر سپریم کورٹ نے ظفرقریشی کا تبادلہ معطل کرتے ہوئے انہیں تفتیش کی ذمہ داری واپس سونپ دی ہے ۔

چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے این آئی سی ایل اسکینڈل کیس میں تین وفاقی سیکریٹریز کو توہین عدالت کے نوٹسز سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی ، سیکریٹریز کے وکیل بابراعوان نے بتایا کہ تقسیم اختیارات اصول کے تحت وزیراعظم نے اختیار سے کام لیتے ہوئے ظفرقریشی کو اسکینڈل کی تحقیقات میں واپس لانے کی سمری مسترد کردی ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت مسلسل ضبط و تحمل سے کام لے رہی ہے، حکومت کو کیوں احساس نہیں ہورہا، عدالت کے اختیار کو ایسے پامال نہیں ہوناچاہیئے ، عدالت نے ظفرقریشی کا تبادلہ منسوخ کرنے کے امکانی حکم پر اٹارنی جنرل سے رائے بھی طلب کی اور بعد میں حکم جاری کیا کہ ظفرقریشی کا تبادلہ معطل کردیا گیا ہے، ڈی جی ایف آئی اے ، کیس کی تحقیقات میں ظفرقریشی کی مکمل معاونت کریں گی، عدالتی حکم میں لکھا گیا ہے کہ ظفرقریشی کی تحقیقات سے پونے 2 ارب روپے کی رقم ریکور ہوئی،ایک دیانت دار آفیسر سے ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیئے، بعد میں عدالت نے تحقیقاتی عمل میں پیش رفت کی رپورٹ ہر پندرہ دن بعد طلب کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت